Muhammad bin Abu Bakr
November 14, 2009حضرت محمد بن ابو بکرؓ
Genealogy of Muhammad bin Abu Bakr (r.a)
حضرت محمّدبن ابو بکؓر کا حسب و نسب
حضرت محمّدبن ابو بکؓر نے 631 عیسوی میں مکہ میں اسوقت آنکھیں کھولیں جب انکی ماں جناب اسما ّ بنت عمیس جو اسوقت زوجہ حضرت ابو بکرؓابن ابی قحافہ تھیں آنحضرت محمدﷺ کے ہمراہ حج کے لئے خانہ کعبہ آئے ہوئے تھے۔ اگرچہ حضرت ابو بکؓر مانع تھے۔ کہ دوراں حمل جناب اسما ّ بنت عمیس یہ سفر طے کریں مگرآنحضرت ﷺ کی سفارش پر ان کو حج اوا کرنے کی اجازت مل گئی۔ حضرت محمدبن ابو بکؓر کو آنحضرتﷺ کی زیارت کا شرف اس وقت ملا جب وہ نومولود تھے۔ حضرت محمّدبن ابو بکؓر کے والد عثمان بن امرابو قحافہ بن کعب بن سعد بن تیم قبیلہ قریش کی ایک شاخ بنی تیم سے تعلق رکھتے تھے۔ جو نجدہ کے رہنے والے تھے۔ حضرت محمّدبن ابو بکؓر کی ماں سلمہ (ام الخیر) بنت شخر بن امر قحافہ بن کعب بن سعد بن تیم کا تعلق بھی قبیلہ قریش کی اسی شاخ سے تھا۔
Genealogy of Mother of Muhammad bin Abu Bakr (r.a) حضرت محمّدبن ابو بکؓر کی ماں کا حسب و نسب حضرت محمؓدبن ابو بکؓر کی ماں جناب اسما ّ بنت عمیس قبیلہ بنی ہاشم سے تعلق رکھتی تھیں۔ انکی پہلی شادی حضرت جعفرؓبن ابیطالب ابن عبدلمطلّب سے ہوئی تھی جو اوائل اسلام میں مسلمان ہو گئے تھے ۔ آنحضرت محمدﷺ کے ارشاد پر ان دونوں نے ایک ساتھ حبشہ ہجرت کی تھی۔ حضرت محمدبن ابو بکؓر کی نانی کا نام ہند تھا اور وہ عوف کی بیٹی تھیں ۔ ہند بنت عوف نے3 شادیاں کی تھیں۔ پہلی مسعود بن امر الثقفی سے ہوئی جن سے کوئی اولاد نہ تھی۔ اور شادی کا انجام علیحّدگی پر ہوا۔ ہند بنت عوف کی دوسری شادی عمیس بن معاد سے ہوئی ۔ جن سے 2 بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ جناب جناب اسما ّ بنت عمیس کی دوسری سگی بہن جناب سلمؓہ بنت عمیس کا عقد حضرت حمزہؓ بن عبدالمطلّب سے ہوا۔ جناب اسما ّ بنت عمیس کی ماں ہند بن عوف نے تیسری شادی حارث بن حازن سے کی جن سے 2 اولادیں بہت مشہور ہیں۔ جناب میمونہؓ بنت حارث اورجناب لبابؓہ بنت حارث جو جناب اسما بنت عمیس کی سوتیلی بہنیں تھیں۔ جناب میمونہؓ بنت حارث کا عقد حضرت محمدﷺ سے اور اورجناب لبابہ بنت حارث کا عقد جناب عباسؓ بن عبدالمطلّب سے ہوا۔ حضرت امام باقر علیہ السلام کا قول ہے کہ یہ چاروں بہنیں اہل جنّت میں ہیں۔ یہ قول شیخ صدوق نے کتاب خصال میں نقل کیا ہے۔ Childhood of Muhammad bin Abi Bakr حضرت محمّدبن ابو بکؓر کا بچپن
ابھی حضرت محمدبن ابو بکؓر کی عمر 3 سال بھی نہ ہوئی تھی کے انکے والد کا انتقال ہوگیا۔ جناب اسما ّ بنت عمیس کا خاندان بنی ہاشم سے گہرا تعلق تھا ۔ وہ حضرت ابو بکؓر سے ہونے والے اپنے دونوں بچوں حضرت محمدبن ابو بکؓر اور جناب ام کلثوم بنت ابو بکؓر کے ہمراہ خدمت امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام میں آ گئیں۔ جناب اسما ّ بنت عمیس کی یہ تیسری اور آخری شادی تھی۔ دونوں بچوں نے گھرانہ آل محمد میں تربیت پائی۔ انہیں حضرت امام حسن علیہ السلام، حضرت امام حسین علیہ السلام اور حضرت عباس کا ساتھ نصیب ہوا۔ امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کا فرمان ہے کہ محمدؓ صلب ابو بکرسے میرا بیٹا ہے۔ حضرت محمدبن ابو بکؓرنے بھی فرمانبرداری امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام مین اپنی تمام زندگی گذار دی۔
Marriage of Muhammad bin Abi Bakr
حضرت محمّدبن ابو بکؓر کی شادی
خسرو پرویز المعروف انوشیروان عادل(579-521) تاریخ ایران کے بہترین دور کا شہنشاہ اعظم جانا جاتا ہے۔بیت سی دوسری خوبیوں کے ساتھ ایک وجہ شہرت اسکا عدل اور انصاف بھی تھا 579 عیسوی میں اسکا بیٹا ہرمزد چہارم تخت نشیں ہوا۔ 591 عیسوی میں ہرمزد چہارم کا بیٹا خسرو پرویزدوم تخت نشیں ہوا آنحضرتﷺ نے دعوت اسلام کے لئے اسکو ایک خط لکھا تھا جو اس نے پھاڑدیا تھا۔ اس کے فوراَ بعد 628 عیسوی میں خسرو پرویزدوم اپنےہی بیٹے شیرویہ کے ہاتھوں قتل ہوگیا۔ 632 عیسوی کے موسم بہار تک جب اسکے جواں سالہ پوتے یزدگرد سوم ابن شہریار کو اسکی پناہگاہ سے نکال کر تخت نشین کرایا گیا ۔اس وقت تک عظیم ساسانی سلطنت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر زوال پذیر ہوچکی تھی۔ اگرچہ یزدگرد سوم کو اس وقت کے مشہور سپہ سالار رستم فرخ زاد کی مکمل پشت پناہی حاصل تھی ۔ رستم فرخ زاد جنگ قادسیہ میں مسلماں افواج کے ہاتھوں ماراگیا۔مسلمانوں سے پئے در پئے شکستوں سے بچنے کے بعد یزدگرد سوم ایران کے مختلف صوبوں میں کھوئے ہوئے اقتدار کو حاصل کرنے کے لئے منصوبہ بندی کرتا رہا یہاں تک کہ 651 عیسوی دور عثمانی میں اس وقت کے صوبے خراساں اورموجودہ ترکمانستان کے شہر مرو میں مارا گیا۔
656 عیسوی (35 ھجری) میں ایران کے صوبے خراسان وہمدان کے گورنر حضرت حریث بن جعفر جعفی نے ایران کے آخری ساسانی تاجدار یزدگرد سوم کی 2 (دو) صاحبزادیوں کو خدمت ا میرالمومنین حضرت علی علیہ السلام میں روانہ کیا جو ان دنوں مدینۃ المنورہ میں تھے۔ یہ بات مصدقہ ہے کہ جناب شہر بانو کو حضرت امام حسین علیہ السلام کے عقد میں دیا گیا۔جن سے حضرت زین العابدین علیہ السلام کی ولادت باسعادت ہوئی۔ جناب مہر بانو کے مطلق مختلف روایات ہیں جن میں ایک یہ کہ وہ حضرت محمدبن ابو بکؓر کے عقد میں آئیں۔جناب قاسمؓ بن محمد بن ابوبکرجو اپنے وقت میں فقہ کے بہت بڑے عالم تھے اور جناب ام فروہ کے والد تھے۔ جناب ام فروہ کا عقدحضرت امام باقر علیہ السلام سے ہوا تھا اور وہ حضرت موسیٰ کاظم کی مادر گرامی تھیں۔ جناب مہر بانو ایک روایت کے مطابق حضرت امام حسن علیہ السلام کے عقد میں آئیں۔ ایک اور روایت کے مطابق انکی نسبت ہندوستان کے بادشاہ چندرگپت سے ہوئی ۔ جہان انکا نام چندرلیکھا لکھا گیا ہے، جس سے پنجاب کے دت لوگوں میں حسینی برہمن معرض وجود میں آئے۔ ایک اور روایت کے
Muhammad bin Abi Bakr – Usman (r.a.) Period
حضرت محمّدبن ابو بکؓر دور عثمانیؓ میں
23 ہجری بمطابق 644 عیسوی میں حضرت عثمانؓ نے خلافت کی ذمہ داریاں سنبھالیں اور اس کے ساتھ ہی ملکی حالات بدلنا شروع ہوگئے۔ حضرت عثمانؓ نے آہستہ آہستہ تمام کلیدی عہدے پر اپنے اعزا اور اقربا کو فائز کرنا شروع کردیا۔ یہ صلہ رحمی، دولت اور عہدوں کی تقسیم دور صدیقیؓ اور دور فاروقیؓ کے عمل پیرا اصولوں کےبرخلاف تھی۔ اس طرح اس سے پہلےاسلام کے متعیں کردہ اصولوں پرجس شدت اور سختی سے عمل ہوتا تھااس میں لچک آگئی تھی۔ دولت کی فراوانی اور حکومت کےنرم رویّے سے عوام الناس کی فکر تبدیل ہونے لگی۔ مولانا ابولعلیٰ مودودی نے اپنی کتاب "خلافت و ملوکیت" میں بڑی حد تک اسکا تذکرہ کیا ہے ۔ اگرچہ موجودہ چھپائی میں کافی کچھ تبدیل کیا جاچکا ہے مگر پھر بھی اچھا حوالہ ہے۔ البتہ پرانے ایڈیشن کی تحریر زیادہ پر اثر اور معنی خیز ہے۔
ابن سعد کے مطابق آنحضرت محمدﷺ نے حکم بن ابی العاص کو اسکی گستاخانہ حرکتوں کی وجہ سے مدینہ سے نکل جانے اورزندگی بھر طائف میں رہنےکا حکم دیا تھا۔ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کےدورحکومت میں حکم بن ابی العاص کو مدینہ میں قدم رکھنے کی اجازت نہ تھی۔ مگر وور عثمانی میں وہ باقاعدہ مدعو کیا گیا۔ کیونکہ وہ میں حضرت عثمانؓ کا چچا تھا۔ (الاصابہ فی تمیز الصحابہ ۔ ابن حجر عسقلانی) حضرت عثمانؓ نے اپنے چچازاد بھائی مروان بن حکم بن ابی العاص کو بھی مدینہ بلوایا جو طائف میں اپنے باپ کے ساتھ رہتا تھا۔ حضرت عثمانؓ نے مروان بن حکم بن ابی العاص سے اپنی بیٹی کی شادی کی ۔ اسکو مشیر خاص مقرر کیا۔ ایک لاکھ درہم بیت المال سے ادا کئے بعص کے نزدیک یہ حضرت عثمانؓ کی ذاتی رقم تھی۔
Posted by Raza Hasan. Posted In : Companion